اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لیبیائی انقلابی قذافی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک جشن منا رہے ہیں اور انھوں نے یا کسی دوسری یا تیسری قوت نے قذافی اور ان کے بیٹے معتصم اور ان کے وزیر دفاع کی لاشیں مصراتہ شہر میں رکھی ہوئی ہیں اور لوگوں نے انہيں قریب سے دیکھنے کے لئے قطاریں باندھی ہوئی ہیں جبکہ اس میں شک نہیں ہے کہ مغربی حکام اور پالیسی ساز اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اس کے تیل کی دولت لوٹنے کے لئے سنجیدہ منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ اس تصویر میں اللہ اکبر کے نعرے لگانے والے لیبیائی انقلابی نوجوانوں نے اس نوجوان کو کندھوں پر اٹھائے رکھا ہے جس کے ہاتھ میں سنہری رنگ کا ایک پستول دکھائی دے رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پستول قذافی کا ذاتی پستول تھا اور اسی پستول سے اس نے کئی مخالفین کو موت کی گھاٹ اتار دیا تھا۔

اٹھارہ سالہ نوجوان کا نام "احمد الشیبانی" ہے جس نے اسی پستول سے قذافی کے سر کو نشانہ بنایا تھا اور پھر اسی زخم کی وجہ سے قذافی ہلاک ہوگیا تھا۔لیبیائی ذرائع ابلاغ نے اس نوجوان کو "قاتل القذافی" کے عنوان سے متعارف کرایا ہے اور عوام اس کو قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق قذافی کے بعض وفاداروں نے اس کے بیٹے سیف الاسلام کے ساتھ کسی خفیہ مقام پر عہد کیا ہے کہ وہ مل کر قذافی کا بدلہ لیں گے۔

قذافی کا غضبناک بیٹاقذافی کے بیٹے الساعدی کے ویکیل نک کافمین نے کہا ہے کہ قذافی کے بیٹے کو باپ کی ہلاکت کی کیفیت سے سخت صدمہ پہنچا ہے اور وہ غصے سے بپھرے ہوئے ہیں اور وہ اپنے بھائی العمتصم کی ہلاکت کی کیفیت سے بھی بہت غضبناک ہے اور اس کا کہنا ہے کہ قذافی حکومت کے گرفتار اراکین پر منصفانہ انداز سے مقدمہ نہیں چلایا جائے گا اور ان کو ظالمانہ انداز سے سزائیں دی جائیں گی۔یاد رہے کہ الساعدی نے طرابلس پر انقلابیوں کے تسلط کے بعد لیبیا سے فرار ہوکر نیجر میں پناہ لی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110